Saturday, 29 April 2017

کولیسٹرول

salam mera nam hai imran mein app ko yaha app k health k bare shai se batao ga jo asaan bhi ho aur app ki sait k liye acha bhi ho,app k man me koi bhi sawal ho app poche sakte ho health k bare me

سوال !
انتہائی پرہیز کے باوجود
کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹریگلو سڑائیڈ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے
کل کی رپورٹ میں کولیسٹرول306
اور ٹریگلو سرائیڈ1465
 ہے کوئی آسان نسخہ
جواب !!!!!
ایک سادہ سا طریقہ بتا رہا ہوں۔ عمل کیجئے اور بغیر نسخوں کے خوش رہئیے۔
 نماز عصر سے پہلے دو کپ پانی ابال لیں۔ ایک مٹی کی گڑوی میں آٹھ عدد خشک انجیر ڈالیں اور یہ گرم پانی اس میں ڈال کر ڈھک دیں۔
 رات سونے سے قبل یہ ڈوبی ہوئی انجیر جو کہ پھول گئی ہوں گی بسم اللہ شریف پڑھ کر کھالیں اور اسکے بعد کچھ نہیں کھانا یا پینا۔ پانی پھینک دیں۔
پہلے دو مہینے ہر ہفتے یہ عمل ایک بار دہرائیں۔
تیسرے اور چوتھے مہینے دو ہفتہ میں ایک بار دہرائیں۔
اگلے پانچویں مہینے سے ہر مہینے ایک بار دہرائیں۔
اور اللہ پاک کا کرم دیکھیں۔
وضاحت !!!!!
ہمیں اصل میں یہ سمجھنا ہے کہ گرمی، بلڈ پریشر، LDL, اورtriglyceridess کس وجہ سے جسم میں بڑھتے ہیں۔
ہوتے تو ہیں ہی، اور ضروری بھی ہیں لیکن بڑھتے کس وجہ سے ہیں؟
 ہم بحیثیت قوم کھانے پینے کے شوقین ہیں۔ ہر چیز جو مزے کی مشہور ہے چھوٹے بچوں کی طرح منہ میں ڈالنے کے عادی سے ہیں۔ ان چیزوں کا اجتماع ہمارے اندر جو کثافتیں بناتا چلا جاتا ہے وہ ہمارے کئی سسٹمز میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔
 اب ٹریگلاسائیٹ کی زیادتی کو ہی لے لیجئے۔ جب میں نے یہ پوسٹ پڑھی تو راقم کی تمام تر عادات میرے تصورات میں آنے لگیں۔ جو کہ ان کی خوراک میں بے ترتیبی اور جو غذا یہ اپنے اندر ڈالتے ہیں اس کے استعمال سے کم فعال زندگی یہ گزارتے رہے ہیں۔ آخر کار جسم نے احتجاج کیا۔
 جب بھی ہم پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، فیٹ زیادہ کرتے ہیں اور ان سے بننے والی کیلوریز کو حل کرنے کی مشقت نہیں اٹھاتے تو جسم دو طرح کے ذرات خون میں بنا دیتا ہے۔ ایک تو کولیسٹرول اور دوسرے ٹریگلاسائیٹ، جو کہ جسم بھر میں خون کے ساتھ ساتھ گردش کرتے رہتے ہیں لیکن خون میں حل پذیر نہیں ہوتے۔ یہ ذرات ضرورت پڑنے پر ہمارے اینزائمز کے ساتھ حل ہو کر کیلوری اور جسمانی توانائی کا سبب بنتے ہیں۔
 جب ان ناحل پذیر ذرات کی مقدار خون میں بڑھ جاتی ہے تو گویا ہم نے جسم میں انرجی کے بم پالے ہوئے ہیں۔ جب بھی جسم کو ضرورت محسوس ہوئی تو جسم جو اینزائم انہیں حل کرکے کیلوریز بنانے کے لئے چھوڑے گا تو توقع سے زیادہ کیلوریز بن جائیں گی۔ اور اس طرح کا مسلسل عمل خاص طور پر دل کے لئے خطرناک ہو گا۔ دوران خون بڑھے گا تو صفائی کا عمل کم سے کم ہوگا اور پھیپھڑوں، گردوں اور جلد کے افعال پر بوجھ بڑھے گا اور آہستہ آہستہ ان کی کارکردگی میں کمی آنے لگے گی۔ جب نظام انہظام کمزور پڑے گا تو آنتوں میں فضلہ بڑھ جائے گا۔ اب آپ تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں کہ مریض جو شکایت کر رہا ہے اسکے پیچھے کیا اعمال و افعال سر زد ہوئے اور ان کے نقصانات دراصل کیا بیماریاں پیدا کر رہے ہیں۔
اب آتے ہیں نسخہ کی طرف۔
 ہمارے نظام میں سب سے بڑا حصہ نظام انہضام کا ہے۔ بہت سے مسائل اس کی صفائی، چابکدستی، اور طاقت سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس میں ڈالی ہر شے کے اثرات ہمارے پورے جسم پر ہوتے ہیں۔
 انجیر جس کا اللہ پاک نے نہ بھی ذکر فرمایا اور احادیث میں بھی اسکی تعریف ہے۔ یہ تازہ مل جائے تو کیا ہی بات ہے۔ چونکہ یہ شہروں میں سوکھا کر لائی جاتی ہے اس لئے خشک انجیر کا ذکر کیا کہ راقم کو دکت نہ ہو۔
 اسکو گرم کردہ پانی میں ڈبو کر رکھنے کی اس لئے صلح دی کہ جب اسے خشک کیا جاتا ہے تو اسے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ سخت چیز کو ہضم کرنے کے لئے زیادہ طاقتور معدہ اور مضبوط نظام انہضام چاہئے۔ جو کہ فی زمانہ بہت کم کے پاس ہے۔ اسلئے بھگوئی ہوئی انجیر کو ذرا تازہ انجیر کے قریب لے جا کر استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔
 آٹھ عدد انجیر جب پانی میں رہ کر صاف ہونے کے علاوہ ٹھوڑی کم اعتدال اثرات لئے ہوئے نظام انہظام میں داخل ہوں گی تو پہلے تو تھوک کے مناسب مقدار اینزائم اس میں شامل ہوں گے، معدے میں جائے گی وہاں معدے کا تیزاب اسے قابل ہضم بنائے گا اور اسکے اساسی اثرات خون میں جا کر ریلیز ہوں گے۔ یہ اساسی اثرات ان ٹریگلاسائیٹ پر عمل کریں گے اور کیلوریز بنے گی۔ اور یہ عمل آگے استعمال ہو گا۔
 انجیر کے بیج جو کہ معدے میں ہضم نہیں ہوتے آنتوں میں آئیں گے، آنتوں میں مزاج اساسی ہوتا ہے۔ یہ بیج اور بچی کھچی انجیریں آنتوں میں موجود اساس کو اتنا طاقتور کریں گی کی اٹکا، رکا، خشک فضلہ اسکی چکنائی اور کیمیائی تعامل سے نرم ہو جائے گا۔
 جب صبح راقم اٹھیں گے تو وہ کیلوریز جو خون میں بنی تھیں اسے دماغ عادت کے مطابق آنتوں کے فعل میں لگائے گا۔ اور فضلہ جو کہ رات بھر میں نرم ہو گیا تھا۔ آنتوں کی حرکت سے مقعد کی طرف چلے گا۔ انجیر کے وہ بیج جو آنتوں میں آ گئے تھے وہ آنتوں کی حرکت سے آنتوں کی دیواروں سے رگڑ کھائیں گے۔
 اور آنتوں کی عادت کا تو آپ کو اندازہ ہی ہے کہ جب انکے اندر رگڑ پڑتی ہے تو وہ زیادہ تیز حرکت کرتی ہیں۔
اس عمل کے نتیجہ میں کئی لوگوں نے کہا ہے کہ صبح بہت زیادہ اور بدبو دار فضلہ خارج ہوتا ہے۔ اور پیٹ کو سکون مل جاتا ہے۔
 اب یہ کہ اس عمل میں پہلے دو مہینے ہر ہفتے میں ایک بار، پھر اگلے دو مہینے میں دوہفتوں میں ایک بار، اور اسکے بعد ہر مہینے ایک بار کرنے کا کس وجہ سے کہا گیا ہے؟
تو بات یہ ہے کہ اسمیں انسانی جسم اور اسکی نفسیات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
 ایک بار عمل کر لیا۔ تو جسم کو مشقت میں نہیں ڈالنا آرام دینا ہے۔ کہ کئی لوگ کمزوری بھی محسوس کرتے ہیں۔ پھر اگلے ہفتہ پھر عمل کرنا ہے۔ اس سے جسم کو اپنی صفائی کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اور اسکے افعال کو قوی کرنا ہے۔
 اگلے دو مہینے دو ہفتے بعد اسلئے کہا کہ جسم اور ذہن متواتر استعمال کی کئی چیز کے عادی ہو جاتے ہیں اسلئے اسکی عادت چھڑانے کے لئے وقفہ بڑھا دیا گیا ہے۔
 تو پھر اگلے ہر مہینے میں ایک بار چہ معنی ؟ وجہ یہ ہے صحت پا کر زیادہ تر لوگ پھر سے بد احتیاطی کرتے ہیں۔ اسکے اثرات کو کم رکھنے کے لئے۔
 اللہ پاک آپ کو صحت، تندرستی اور خوشیاں دے۔ آمین۔